قاہرہ،10اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)انتہا پسند تنظیم داعش نے مصر کے دو کلیساؤں میں اتوار کے روز ہونے والے الگ الگ بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔مغربی گورنری کے صدر مقام طنطا اور اسکندریہ شہر کے سینٹ مارکس چرچ میں ہونے والے بم دھماکوں میں دسیوں افراد ہلاک جبکہ ایک سو سے زائد ہلاک ہوئے۔داعش کی خود ساختہ خبر رساں ایجنسی ”اعماق“ کے مطابق اتوار کے روز مصر کے دو چرچوں میں ہونے والے بم دھماکے انہوں نے کئے جہاں قبطی ایک تقریب منعقد کر رہے تھے۔
یاد رہے تنظیم نے گذشتہ برس دسمبر میں قاہرہ کے ارتھوڈکس چرچ میں ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی جس میں کم سے 25 افراد لقمہ اجل بنے۔پہلا دھماکا طنطا کے چرچ میں مصری وقت دس بجے اس وقت ہوا جب وہاں عبادت جاری تھی جبکہ دوسرا دھماکا ساحلی شہر اسکندریہ کے سینٹ چرچ میں دن بارہ بجے ہوا۔یاد رہے کہ داعش نے امسال فروری میں ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے قبطی عیسائیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ قبطی عیسائی مصر کی 92 ملین آبادی کا دس فیصد ہیں۔